|
|
وادی فقر کا بیان
ایک شب اک بزم میں سب جمع پروانے ہوئے چاہتے تھے ہم میں سے اُڑ کر کوئی جائے اُدھر ایک پروانہ اُڑا اور قصر کی جانب گیا واپس آ کر شمع کے بارے میں سب سے بات کی ایک ناقد تھا اُسی مجمع میں، اُس نے راے دی تب کہا ایک اور پروانے نے، اَب میں جاؤں گ دور سے دیدار اُس محبوب کا اُس نے کیاا شوق کی شدّت میں جوں ہی گِرد وہ اُس کے پھرا واپس آ کر سب سے پھر اُس نے بھی حالِ دِل کہا بولا ناقد، سچ یہ ہے، تم بھی ہو بالکل بے خبر جوشِ عشقِ شمع میں ایک اور پروانہ اُٹھا شمع کے شعلے پہ جا کر اُس نے لب یوں رکھ دیے اُس کا سارا ہی سراپا، سرخ و شعلہ رُو ہوا دیکھنے والے نے جب دیکھا اُسے تو یہ کہا مٹ گیا تو شاملِ اہلِ نظر، یہ ہو گیا تو بھی جب تک ہو نہ جائے جسم و جاں سے ماورا اور اگر ایک موے تن بھی تیرا باقی رہ گیا یہ فنا اک شرط ہے لا انتہا کے وصل کی |