back next
   
   

Source: Revelation by Hazrat Salaheddin Ali Nader Angha

 
 

 

 

 

رِجا( اُمید)

"امید زر خیز زمین میں بویا ہوا وہ بیج ہے جو پھل دیتا ہے۔"

("رازنامہ" از مولانا صلاح الدّین علی نادر عنقا)


حضرت مولانا شاہ مقصود صادق عنقا "کتاب الرّسائل" میں فرماتے ہیں: 1

رجا،حق کے لطف و کرم کی معرفت رکھتے ہوئے اُس پر یقین رکھنا اور اُس کے فضل و احسان اور رحمت کی" وسعت ہے اور دلی طور پر خداوندِعالم کی عنایات و عطیات کی اُمید رکھنا ہے۔"

شیخ روزبہان بقلی فرماتے ہیں: "خوف خداوند کا عدل اور رِجا اُس کے فضل سے ہے۔" شیخ صفی الدّین اردبیلی نے فرمایا ہے: "رِجا کی حقیقت خداوند کے فضل و کرم کے وجود کی بشارت چاہنا ہے۔"

شیخ نجم الدّین کبریٰ نے فرمایا ہے: " رِجا غم و اندوہ کی شفاعت کرنے والی ہے اور خوف عمل کا رقیب ہے۔"

حضرت امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا ہے: "رِجا پروردگار کے لطف و کرم سے دل کی نزدیکی اور حُسنِ وعدہ سے دل کا سُرور ہے۔"

حضرت نادر علی عنقا پیرِ اویسی، کتاب "رازنامہ" میں اُمید کی یوں توصیف فرماتے ہیں:

امید زر خیز زمین میں بویا ہوا وہ بیج ہے جو پھل دیتا ہے۔

ہمارے دل کی دنیا میں ناامیدی کا پودا ہرگز نہیں اُگتا۔

خاموش فریاد عشق کی حرارت سے معراج پا گئی،

اور آسمان صادقوں کی تمنّا کے سامع ہو گئے ۔

اے خداوندِ کعبۂ عارفاں

امیدواروں کے دل کی تضرّع کے واسطے

جواں مردوں کی ہمّت کے صدقے

آگاہ دلوں کی عاشقانہ مَجمِر کے صدقے

شاہدوں کے چہرے کے تقدّس اور پاکیزگی کے صدقے

لالہ کاروں** کے حُسن کی تازگی کے صدقے

میری جان میں اپنے عشق کی آگ لگا دے۔"2

 


1- Molana Shah Maghsoud Sadegh Angha, Al-Rasa’el- Al Salat ( M.T.O. Shahmaghsoudi Publication, Tehran, Iran,1975) p. 34

2- Molana Salaheddin Ali Nader Angha, The Secret word ( University Press of America, New York, 1984) pp.21-22

** لالہ کار : وہ برگزیدہ جو حقیقت کی طرف سالک کی رہنمائی کرتا ہے۔